The Sin and Its Effects in Different Approach

The Sin and Its Effects in Different Approach

The Sin and Its Effects

When a person commits a sin, Allah helps him to repent, so he repents and comes to the right path. Allah forgives his sins, or when a disbeliever becomes a Muslim, all his past sins are forgiven and it is as if he is born now. It has happened that when a person repents after the sin with remorse and with a sincere heart, Allah will not only forgive his sins but also turns his sins into good deeds, but in spite of all this, one of the effects of sin remains: (Sin and Its Effects)

When a person practices asceticism after coming to the right path, Satan reminds him of the pleasure of the sin he has committed in the past so that he may go astray, and Satan constantly reminds him.  If man continues to practice more. (Sin and Its Effects)

Protect himself from the devil’s attack and get rid of this attack and get more spiritual progress, then this sin keeps on making him feel remorse, then he keeps on feeling remorse for his past sins, then man tries to avoid this shame. He gets closer to Allah, the more he practices austerities and good deeds, but with more austerities and good deeds, this remorse intensifies, even man does not pay attention to the counting of his deeds and austerities. (Sin and Its Effects)

The thought remains that if Allah Almighty asks the temple of this sin on the Day of Judgment, what will I answer, how can I stand before my Allah, then this remorse compels him to weep and wail before Allah and It is this remorse that causes of his elevation, and it causes him to be extremely humble. (Sin and Its Effects)

(Sin and Its Effects)


(The Sin and Its Effects) گناہ اور اس کے اثرات

انسان گناہ کرتا ہے اللہ تعالی اس کو توبہ کی توفیق دیتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے اور راہ راست پر آ جاتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے یا کوئی کافر انسان جب مسلمان ہوتا ہے تو اس کے ماضی کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور وہ ایسے ہو جاتا ہے کہ جیسے اب یہی اس نے جنم لیا ہے ایسا بھی آیا ہے کہ جب انسان گناہ کے بعد ندامت کے ساتھ اور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی نہ صرف اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے بلکہ اس کے گناہوں کو نیکی میں بدل دیتا ہے لیکن یہ سب ہونے کے باوجود بھی گناہ کا ایک اثر ہمیشہ باقی رہتا ہے وہ یہ ہے کہ :-

جب انسان راہ راست پر آنے کے بعد ریاضت کرتا ہے تو شیطان وار کے طور پر اسے اسی ماضی کے کئے ہوئے گناہ کی لذت یاد دلاتا ہے تاکہ وہ بہک جائے اور یہ لذت شیطان اور سے مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے اور اگر انسان مزید ریاضت کے ذریعے شیطان کے وار سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیں اور اس وار سے بچ جائے اور مزید روحانی ترقی حاصل کرلی تو اسے یہی گناہ ندامت دلاتا رہتا ہے

اسے پھر اپنے ماضی میں کیے گئے گناہ پر ندامت ہوتی رہتی ہے پھر انسان اس ندامت سے بچنے کے لیے مزید اللہ کے قریب ہوتا ہے مزید ریاضت اور نیک اعمال کرتا ہے مگر مزید ریاضت اور نیک اعمال سے یہ ندامت بھی شدت اختیار کر لیتی ہے یہاں تک کہ انسان کو اپنے اعمال اور ریاضت کی گنتی کی طرف دھیان ہی نہیں رہتا

اسے بس ہر وقت یہ فکر رہتی ہے کہ اگر روز محشر اللہ تعالی نے اس گناہ کے معبد پوچھ لیا تو میں کیا جواب دوں گا میں کیسے اپنے اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا پھر یہ ندامت اسے اللہ کے حضور رونے گڑگڑانے اور آہ و زاری پے مجبور کرتی ہے اور یہی ندامت اس کے درجات بلند کرنے کا سبب بنتی ہے اور انسان میں انتہا درجے کی عاجزی و انکساری پیدا کرتی ہے

Image by Jeroným Pelikovský from Pixabay